" سر تیپ محمد حسن نامی، دستیارِ ویژه / معاون خصوصی وزیر داخلہ
(وزیر کشور) ایران
ایران کے وزیر داخلہ کے دستیارِ ویژه سرتیپ محمد حسن نامی نے آج "سپہر سیاسی" (سپهر سیاسی) پروگرام میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز، آبنائے مالاکا اور باب المندب دنیا کے تین سب سے اہم ترین اسٹریٹجک چیک پوائنٹس ہیں۔
انہوں نے واضح کیا:
"اب تک، کچھ حکمتِ عملی اور تدبیری وجوہات کی بنا پر ہم نے صرف آبنائے ہرمز کی صلاحیتوں کا استعمال کیا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ دوسرے آپشنز کو نظر انداز کر دیا گیا ہو۔"
سرتیپ نامی نے مزید خبردار کیا:
"اگر کسی وقت مجبوری ہوئی اور ایران پر فوجی تعرض (حمله) ہوا تو باب المندب بھی جنگ کے معادلات میں داخل ہو جائے گا۔ اس صورت میں عالمی تیل کی قیمت ۲۰۰ سے ۲۵۰ ڈالر فی بیرل تک پہنچ جائے گی۔"ان کا کہنا تھا کہ ان تینوں تنگوں کا ایک ساتھ فعال ہونا عالمی توانائی کی سپلائی لائنز کو مکمل طور پر مختل کر دے گا اور علاقائی و عالمی معاشی و فوجی توازن میں بڑی تبدیلی آ جائے گی۔ماخذ:آفتاب نیوز (Aftabnews) – 30 اردیبهشت ۱۴۰۵ / 20 May 2026
https://aftabnews.ir/fa/news/1049545
- اقتصاد نیوز (Eghtesadnews) – 20 May 2026 (فارس نیوز کا حوالہ)
Comments
Post a Comment